سلک[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ڈوری، دھاگہ، تار، رشتہ۔  بحرو اوزان و تقطیع کی سلک میں میں نے الہام کے در پرو کر دیے    ( ١٩٨٠ء، خوشحال خاں خٹک (ترجمہ)، ١٢١ ) ٢ - لڑی، ہار۔ "شمس العلماء کی کتاب "تمدن عرب" جس کی شہرت عالمگیر ہو چکی ہے اس سلک کا بیش بہا گوہر ہے۔"    ( ١٩٤٣ء، حیات شبلی، ٣٦٢ ) ٣ - [ مجازا ]  سلسلہ، قطار۔ "کالج کی سلک ملازمت میں داخل ہو کر بینی نارائن نے دوکتابیں تالیف کی ہیں۔"      ( ١٩٦٧ء، چار گلشن (مقدمہ)، ٩ ) ٥ - [ کاشتکاری ]  آمدنی و خرچ کا حساب، لگان کے حساب جمع و خرچ کی باقی، فرد حساب۔ "جو رقم خرچ کی صندوق میں رہتی ہے اس کے سلک کی سرسری پڑتال بھی ہر روز شام کے وقت کی جاتی ہے۔"      ( ١٨٨٨ء، رسالہ حسن، ٨ اگست، ٦٧ ) ٦ - [ محاسبی ]  وہ رقم جو تجارتی مال کی خریدو فروخت کا حساب بند کرنے پر جمع و خرچ کی میزان کے بعد باقی رہے، باقی تحویل۔ "اس میں نقدی نویس کے روزنامچہ کی سلک و باقی لکھیں۔"      ( ١٩٠١ء، ارکان اربعہ، ٤٣:٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم مشتق ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - لڑی، ہار۔ "شمس العلماء کی کتاب "تمدن عرب" جس کی شہرت عالمگیر ہو چکی ہے اس سلک کا بیش بہا گوہر ہے۔"    ( ١٩٤٣ء، حیات شبلی، ٣٦٢ ) ٣ - [ مجازا ]  سلسلہ، قطار۔ "کالج کی سلک ملازمت میں داخل ہو کر بینی نارائن نے دوکتابیں تالیف کی ہیں۔"      ( ١٩٦٧ء، چار گلشن (مقدمہ)، ٩ ) ٥ - [ کاشتکاری ]  آمدنی و خرچ کا حساب، لگان کے حساب جمع و خرچ کی باقی، فرد حساب۔ "جو رقم خرچ کی صندوق میں رہتی ہے اس کے سلک کی سرسری پڑتال بھی ہر روز شام کے وقت کی جاتی ہے۔"      ( ١٨٨٨ء، رسالہ حسن، ٨ اگست، ٦٧ ) ٦ - [ محاسبی ]  وہ رقم جو تجارتی مال کی خریدو فروخت کا حساب بند کرنے پر جمع و خرچ کی میزان کے بعد باقی رہے، باقی تحویل۔ "اس میں نقدی نویس کے روزنامچہ کی سلک و باقی لکھیں۔"      ( ١٩٠١ء، ارکان اربعہ، ٤٣:٣ )

اصل لفظ: سلک
جنس: مؤنث